Wednesday, 9 January 2019

غزل

میرےرنگ،میرےموسم،میرےشباب رکھ لئے
اس نے میرے حصے کے سارے گلاب رکھ لئے

میرے رتجگے کا شمارہو،میرےملال کامنظر ٹھرے
میرے جنوں کے استعارے،میرے ہونے کے جواب رکھ لئے

اس نے رکھ لئےسب ہجوم ارماں،آئینہ جاں
اس سورج بدست نےسحرکےسراب رکھ لئے

کیا ریزہ ریزہ اس دل کوہسارکے فلک کو
اس راہبر خاموش نے یوں شباب رکھ لئے۔
ساتوں آسمان


1 comment: