Saturday, 12 January 2019

غــــزل


غــــــزل
کچھ اہل جہاں،اہل وفا کی بات کرو
کسی کہکشاں اور کچھ صبا کی بات کرو
کئی قرنوں پہ محیط ہوئی ہے سیاہی
کبھی مٹ نہ پائے اس پیکر ضیاء کی بات کرو
بد نام ہی رہتے ہیں یہ اہل زوق وفا
کچھ تم ہی ان کو اب ذکا کی بات کرو
یہ ٹوٹے ہوئے دن،اور بکھری سی راتیں
خدارا!کوئی تو اب شفا کی بات کرو
سنسان بنا رکھا ہے تیرے ہجر کے کرب نے
چند ساعت ہی سہی،بحر بہا کی بات کرو
چلو،اس ہجر میں بھی راحت میسر سہی
تمھی تھک جاو گے،سو نہ خطا کی بات کرو
میرے لوٹ کے آنے تلک،در وا تو رکھ مہر ماہ
میں بے وفا نہی،نہ میری جفا کی بات کرو۔
ســــــــاتــــــــوں آســــمـــان

No comments:

Post a Comment