Monday, 26 August 2019

غــــــزل

 ک
ـبـھی  تھی  تـیـری  آرزُو  میں رَعـــنــائـــی بہت
پِـھـر  ہـر  سُــو ہـمـیـں نـظـر  آئی رُســوائـی  بہت
پُـھول رُت کو بڑا  نَــاز  ادائـے دلــکـشــی پہ اپنی
تھی چمن کے بھنوروں کی فطرت ہرجــائـی بہت
دور  چلـے جانـے سـے کـبـھـی ٹُـــوٹ بھی سکا ہے
مـیـری دھـــرتـی کے بنـدھـن میں ہے سچائی بہت
ہـوش و خـرد بھلا کر بھی نام لــیــوا ہے صـنـم کا
گرچہ سرِ بازار ہوئی دیوانے کی جگ ہنسائی بہت
اس  کـے  لــبوں  کی  زیـنــت بنا ہر گُـــل چـمـن کا
اُس کے ہاتھوں میں کلــی گلاب کی شرمائی بہت
بـعـد مُــدت کـے ســرِ مــحفــل ہوا جب ذکر تمہارا
بـعـد مُـدت کـے شـدَت سـے تیــری یـــاد آئـی بـہـت
ہـوں  پُــور پُــور  ڈوبــی  اس کـے ہـی خـیـال مـیں
اُس  کـے دلــرُبا   تـصـور   میں  ہے  گـہرائی  بـہـت
میرے صنم کو نا پسند خیال و شعر کی دنیا میری
میرے  عزیزوں  کو  اُس  کی  یہی  ادا  بھائی  بہت
ســــــــاتــــــــوں آســمــان

Sunday, 25 August 2019

نــــظـــم

مجھے آنکھوں کی بینائی میں
دل میں جینے کی کسی تمنا سے
خوشی کے کسی دلفریب موضوع پر
کسی غزل میں رچِی نزاکت سے
آبشاروں کے جادوئی بہتے پانیوں میں
جگمگاتی رنگینیوں سے چمکنے والی
معتبر خوابیدہ روشنی میں
دھرتی کی اس پاکیزہ مٹی میں
دمکتے ذروں کے نظر آنے پر
ہر درد سے پاک کسی کھلکھلاتی معصوم سادہ سی
مسکراہٹ میں
پُر نور حسین واديوں کے
ہر سُو پھیلے طلسماتی حُسن میں
معصوم پھولوں کی مہکتی، پھیلتی ہنسی میں
اے میرے نقاشِ اَزل
مجھے ہر سُو تو ہی تُو نظر آتا ہے
جیسے آنکھوں پر چھائیپلکیں ہوں
جیسے مُدھر گیتوں میں رَس گھولتی سماعتیں ہوں
جیسے صحرا پر برستی بارشیں ہوں
بس تُو ہو اور
تیرے کرم کی راحتیں ہوں
ســــــــاتــــــــوں آســمــان

Saturday, 24 August 2019

نــــظـــم


یقیناً تم، میرے شاہِ من دل گرفتہ ہو
ورنہ کون اپنے حال سے واقف پورے شہر کو کرتا ہے
شناسائی کے نشتر
چہرے پر لئیے
آشفتہ حالی میں پریشان پھرتا ہے
مقدر کے کسی ٹوٹے ستارے کو
رِہ گزر سے اٹھا کر
ہواؤں کے بھروسے پر
اندھیری رات میں کون نکل پڑتا ہے
اور اپنی نیندوں کو رتجگے سونپ دیتا ہے
چاہے کتنے ہی گلاب محبت کے
تیرے نام ہوں
چاہے کتنے ہی رنگ، خوشبو، دھنک، صبا
تیرے دل کا قرار ہوں
چاہے کتنی ہی کڑی دھوپ راہ کی
تیرے لئے سایہٕ دیوار ہو
نہ غم آشکار ہو
ہر آرزو، تمنا تیرے دل کا تار ہو
اور پھر بھی میرے شاہِ من
تیرے دل کا کوئی نہ طلبگار ہو
تو کسی جذبۂ ایثار سے
مقدر آزماتا کون ہے
بے حِسی کے عالم سلجھاتا کون ہے
آنسوؤں کے کارواں دیکھتا کون ہے
ہاں!  میرے   شاہِ من یقیناً
تیرے دل کا ملال ہے
ورنہ
اپنے شہر کی طرف لوٹ کر آتا کون ہے
ســــــــاتــــــــوں آســمــان

Wednesday, 7 August 2019

غزل

چھلک  کے  اِک  بار " بہہ" جائے تو سہی
رُسوائیوں میں اک بار " آزمائے" تو سہی

رنج و غم کی "پرچھائیاں "مٹ بھی سکتی تھی‍ں
زخم  آنکھوں  میں    "نیند"   سمائے    تو    سہی

جِس دَامن کو  دیکھئیے  "اُلجھا"   ہوا سا ہے
آئینۂ  "زیست"  میں  عکس  سجائے تو سہی

رسوائیوں کے شدید "لمحوں" میں اک بار ہی وہ
الزاموں  پر  اپنی  "گواہی" دے  جائے  تو  سہی

پھر صداؤں میں "بھٹکتی" رہے زیست تا عُمر
اِک  بار مگر  وہ  "چہرہ"  دکھا جائے تو  سہی

میں ہر قدم اس کے در تک" سمیٹ"  لوں
وہ  مجھ  تک  اِک  " بار" آ  جائے تو سہی

پھر باوجود کوشش کے کبھی "تصدیق" نہ ہو گی
میرے  عکس  پر  پڑی  "دھول"  اتر جائے تو سہی


چلے بھی آؤ کہ "تقاضا" ہے میرے تقدُس کا
در  انتہاء پر سچ "اساس" ہو جائے تو سہی

چھاگل کے  وقت  کی ہے قطرہ قطرہ "چھلکتی" ہوئی
طویل  دھارے  سے  اس  کے وہ" آزاد" کر جائے تو سہی

اِدھر سوچوں اور اُدھر "سمیٹ" لوں اے کاش
یہ  عمر  رائیگاں  اک  بار  "تھم" جائے  تو سہی

سـ
ـــــــاتــــــــوں آســمــان

Wednesday, 24 July 2019

میرے رنگ میرے موسم میرے شباب رکھ لئے

میرےرنگ،میرےموسم،میرےشباب رکھ لئے
اس نے میرے حصے کے سارے گلاب رکھ لئے

میرے رتجگے کا شمارہو،میرےملال کامنظر ٹھرے
میرے جنوں کے استعارے،میرے ہونے کے جواب رکھ لئے

اس نے رکھ لئےسب ہجوم ارماں،آئینہ جاں
اس سورج بدست نےسحرکےسراب رکھ لئے

کیا ریزہ ریزہ اس دل کوہسارکے فلک کو
اس راہبر خاموش نے یوں شباب رکھ لئے۔

اک بُوند پانی، عُمر کی نقدی ریت کی مانند
مَن کی چُپ نے طوفان کے سب اسباب رکھ لئے

کچھ تو عہدِ گریزاں ہے پتھروں کی مانند
 اور کچھ یادِ عزیزاں نے میرے خواب رکھ لئے

تیرے شہرِ ستم میں میرا ربط نہ بڑھ سکا
یوں میرے احباب نے میرے خواب رکھ لئے

ادھوری سی چاہت کے الجھے سے سوالوں نے
اور کچھ رسمِ خرابات نے میرے آداب رکھ لئے

رو دیتا ہے آکاش بھی بھر جائے اگر درد سے
نہ رو کر دلِ نادان نے سارے عذاب رکھ لئے

رہنے نہ دی کوئی آنکھ بھی شبنمی چمن کی
آتی بہار کے یوں اس نے سارے ادراک رکھ لئے
ساتوں آسمان