سوکھے چشموں سے نہی نکلتے گیت،جلترنگ کے
سیرابئ بہاراں کے ان حصار سے نکلنا چاہئیے
رشتوں کے جنگل میں وعدوں کے سانپوں نے
بچھا رکھے ہیں ان،جالوں سے نکلنا چاہیے۔
ساتوں آسمان
سیرابئ بہاراں کے ان حصار سے نکلنا چاہئیے
رشتوں کے جنگل میں وعدوں کے سانپوں نے
بچھا رکھے ہیں ان،جالوں سے نکلنا چاہیے۔
ساتوں آسمان
No comments:
Post a Comment