Friday, 31 May 2019

غــــــزل

🌷غزل🌷
میں بھول نہی پاٶں گا،وہ کہ رہا تھا
مگر اِک طویل جدائی کو سہ رہا تھا

وہ بدلتے موسموں میں بدل گیا کیونکر
کہ بن کے کاجل،میری آنکھوں سے بہہ رہا تھا

اُس نے آس کے پنچھی میرے نام کیۓ تھے
بعد اُس کے دم توڑتا انتظار ٹھہر رہا تھا

میں کہ سِیپ میں آخری قطرہٕ سچ ہوں
اور وہ میری رگوں کی حرارت کا شہ رہا تھا

اِن اشکوں میں ڈوبنے سےاِک خوف تھا اُسے
اِن آنکھوں میں اِک سمندر جو رہ رہا تھا

اُدسِیاں ہیں کہ پتھر،ہٹتے نہی تن سے
کہ روح تلک نارسائی کا اِک صحرا ٹھہر رہا تھا

یہ عِشق کی نظر،ہے،رقص میں اَزل سے
اِسی نظر کا صدمہ،دل کب سے سہ رہا تھا

یہ کِس رشکِ مسیحا نے قدم رکھا زمین پر
کہ ساۓ میں دیوار کے آسمان اُتر رہا تھا

یاد بھی نہ رکھااُس نے،پلٹ کے بھی نہ دیکھا
اِک شِکوہٕ اِطمینان دل سے اُلجھ رہا تھا
            ساتوں آسمان

No comments:

Post a Comment