Friday, 17 May 2019

نــــظـــم

ہم حصار زدہ عورتیں
ہر رات
 اپنے سکُھوں کی مچلتی آس کو
تسلی
کے آنچل سے ڈھانپ کر
ہزاروں سلگتی آہوں کو
دل کی تپتی بھٹی میں گھونپ کر
ہر صبح
جب پابندی سے
پھر نئے سرے سے
ستاروں کی تلاش میں
بیدار ہوتی ہیں
یوں سنسار ہوتی ہیں
تو گویا
اک جہاں سر کر آتی ہیں
اپنے سماعتوں کے گزرے
لمحوں کو آس سولی پر
مسلوب کر اتی ہیں
ہم حصار زدہ عورتیں
بے شمار مصلحتوں سے بندھی
اپنی انمول زندگی
بے انت آبلہ پائی کے ایوز
اور
ناسہن ہوتے
بے رین ہوتے
یقینوں کو
سُچے سُچے آبگینوں کو
کئی بیمار شبوں کو
صرف ایک
نظرِ کرم کی خاطر
منوں مٹی کے تلے دفن کر آتی ہیں
تو گویا
خود کو مسمار کر آتی ہیں
اک جہاں سر کر آتی ہیں
ہم حصار زدہ عورتیں
ســــــــاتــــــــوں آســمــان

No comments:

Post a Comment